سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: : حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : حَجَّ عُثْمَانُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " أَنَّ عُثْمَانَ نَهَى أَصْحَابَهُ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لأَصْحَابِهِ : إِذَا ارْتَحَلَ عُثْمَانُ فَارْتَحِلُوا ، قَالَ : فَأَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِعُمْرَةٍ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ عُثْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ : أَلَمْ أُخْبَرْ عَنْكَ أَنَّكَ نَهَيْتَ أَصْحَابَكَ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ ، يَعْنِي إِلَى الْحَجِّ ، أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟ ، قَالَ : بَلَى . قَالَ سَعِيدٌ : فَلا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے، راستے میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عثمان نے اپنے ساتھیوں کو عمرے کو حج کے ساتھ ملانے سے، یعنی حج تمتع کرنے سے منع کر دیا ہے، تو سیدنا علی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”جب سیدنا عثمان روانہ ہوں گے، تو تم بھی روانہ ہو جانا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرے کا احرام باندھا، تو سیدنا عثمان نے ان حضرات کو کچھ نہیں کہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان سے کہا: ”مجھے آپ کے بارے میں یہ بات بتائی گئی ہے، آپ نے اپنے ساتھیوں کو عمرے کو حج کے ساتھ ملانے سے، یعنی حج تمتع سے منع کر دیا ہے، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نہیں سنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے؟“ تو سیدنا عثمان نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سعید بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عثمان نے انہیں کیا جواب دیا۔