سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: : حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2717
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ الضَّرَّابُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فَرِيضَتَانِ عَلَى النَّاسِ كُلُّهُمْ إِلا أَهْلَ مَكَّةَ فَإِنَّ عُمْرَتَهُمْ طَوَافُهُمْ ، فَإِنْ أَبَوْا فَلْيَخْرُجُوا إِلَى التَّنْعِيمِ ، ثُمَّ يَدْخُلُونَهَا مُحْرِمِينَ ، وَاللَّهِ مَا دَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حج اور عمرہ تمام لوگوں پر فرض ہے، صرف اہل مکہ کا حکم مختلف ہے، کیونکہ ان کا عمرہ ان کا طواف کرنا ہو گا، اگر وہ اصرار کریں، تو تنعیم چلے جائیں، پھر وہاں سے حالت احرام میں داخل ہو جائیں، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں جب داخل ہوئے، تو یا تو آپ نے حج کا احرام باندھا ہوتا تھا یا عمرے کا احرام باندھا ہوتا تھا۔