سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوُضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْو وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ : هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلاةِ.حمران بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک دن وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر انہوں نے وضو کیا، دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا اور پھر بائیں بازو کو بھی اسی طرح دھویا، پھر انہوں نے سر کا مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا اور پھر بائیں پاؤں کو بھی اس طرح دھویا، اور یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے وضو کیا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ’جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور پھر اٹھ کر دو نفل ادا کر لے، جن میں وہ اپنے خیالوں میں گم نہ رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دے گا۔‘“ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: ہمارے علماء نے یہ بات بیان کی ہے: ”نماز کے لیے اچھی طرح وضو کرنے کا یہی طریقہ ہے۔“