حدیث نمبر: 2709
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزٍ الأَنْمَاطِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ ، نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ فَقَالَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین

سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا عمرے کا حکم ہمارے اس سال کے لیے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ہمیشہ کے لیے ہے، عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے (یعنی ان دونوں کو ایک ساتھ کیا جا سکتا ہے)۔“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2709
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6661، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2808 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3774، 3775، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2977، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8862، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2709، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17856»
«قال الدارقطني: رواته كلهم ثقات ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 106)»