حدیث نمبر: 2707
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، نا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَنِ الْقَائِلُ ؟ " ، قَالُوا : فُلانٌ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا أَطَقْتُمُوهَا ، وَلَوْ لَمْ تُطِيقُوهَا لَكَفَرْتُمْ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”لوگو! تم پر حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سوال دہرایا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہنے والا کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: فلاں شخص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا۔ اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، اور جب تم اسے نہ کر پاتے، تو تم کفر کے مرتکب ہوتے۔“ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کی جائیں، تو تمہیں برا لگے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2707
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 7288، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1337،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2508، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 18، 19،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2621 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3585، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2679، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1، 2، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2705، 2706، 2707، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7484»