سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ فَرْضِ الْحَجِّ وَكَمْ مَرَّةً حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: حج کی فرضیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج کیا؟
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، نا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَنِ الْقَائِلُ ؟ " ، قَالُوا : فُلانٌ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا أَطَقْتُمُوهَا ، وَلَوْ لَمْ تُطِيقُوهَا لَكَفَرْتُمْ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”لوگو! تم پر حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سوال دہرایا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہنے والا کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: فلاں شخص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا۔ اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، اور جب تم اسے نہ کر پاتے، تو تم کفر کے مرتکب ہوتے۔“ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کی جائیں، تو تمہیں برا لگے۔“