سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ فَرْضِ الْحَجِّ وَكَمْ مَرَّةً حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: حج کی فرضیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج کیا؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، بِالْكُوفَةِ ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْحَجُّ كُلُّ عَامٍ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " لا ، بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، وَلَوْ قُلْتُ : كُلُّ عَامٍ لَكَانَتْ كُلَّ عَامٍ " ، فَقَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَحُجُّ مَكَانَ أَبِي فَإِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَقَالَ : " حُجَّ مَكَانَ أَبِيكَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے بلند آواز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ نے فرمایا: ”نہیں! بلکہ مسلمان پر ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے، اگر میں ہر سال کہہ دیتا، تو یہ ہر سال فرض ہو جاتا۔“ تو ایک اور شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتا ہوں، کیونکہ وہ بزرگ آدمی ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“