سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ وَالتَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ وَالتَّطَيُّبِ قَبْلَ الْإِفَاضَةِ
ثنا ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الأَشْعَثِ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ . يَعْنِي الْحَائِضَ تَنْفِرُ ، فَقَالَ : " تُقِيمُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ " . قَالَ طَاوُسٌ : فَلا أَدْرِي ابْنُ عُمَرَ نَسِيَهُ أَمْ لَمْ يَسْمَعْ مَا سَمِعَ أَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ عَامًا أَوْ عَامَيْنِ شَهِدْتُهُ وَسُئِلَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " نُبِّئْتُ أَنَّهُ رُخِّصَ لَهُنَّ ".طاؤس بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، یعنی حیض والی عورت کے واپس جانے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: وہ وہیں ٹھہری رہیں گی، جب تک وہ آخری مرتبہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر لیتی۔ طاؤس نے بیان کیا: مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس روایت کو بھول گئے یا انہوں نے اس روایت کو سنا ہی نہیں، جو ان کے دوسرے ساتھیوں نے سنا تھا، اس کے بعد ایک یا دو سال بعد میں ان کے پاس موجود تھا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے بتایا: مجھے یہ بات بیان کی گئی ہے، ان خواتین کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے (وہ طواف وداع کیے بغیر واپس جا سکتی ہیں)۔