حدیث نمبر: 2680
ثنا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزْدَادَ الْكَاتِبُ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِ النَّحْرِ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ وَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، كُلَّ جَمْرَةٍ سَبْعَ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الأُولَى وَعِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا " .
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قربانی کے آخری دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ واپس تشریف لے گئے اور ایام تشریق کی راتیں منی میں بسر کیں، آپ سورج ڈھل جانے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارا کرتے تھے، آپ ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارا کرتے تھے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، آپ نے پہلے جمرہ کے پاس بھی وقوف کیا تھا، دوسرے جمرہ کے پاس بھی وقوف کیا تھا اور وہاں کھڑے ہو کر کافی دیر گریہ و زاری (کے ساتھ دعا) کرتے رہے تھے، پھر تیسرے جمرہ کو کنکریاں مارنے کے وقت وہاں پر وقوف نہیں کیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2680
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 541، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2956، 2971، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3868، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1762، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1973، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9763، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2680، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25231»
«قال البيهقي: حديث ابن عمر أصح إسنادا من هذا أي حديث عائشة ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 82)»