سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ وَالتَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ وَالتَّطَيُّبِ قَبْلَ الْإِفَاضَةِ
حدیث نمبر: 2676
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَخْرُجْنَ مِنْ جَمْعٍ لَيْلَةَ جَمَعَ فَيَرْمِينَ الْجَمْرَةَ ، ثُمَّ تُصْبِحُ فِي مَنْزِلِهَا فَكَانَتْ تَصْنَعُ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَتْ " . قَالَ عَطَاءٌ : وَلَمْ أَزَلْ أَفْعَلُهُ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ مزدلفہ سے رات کے وقت ہی روانہ ہو جائیں اور جمرات کو کنکریاں مار لیں، پھر صبح کے وقت اپنی قیام گاہ پر واپس آ جائیں، تو وہ خواتین ایسا ہی کرتی رہیں، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوا (یعنی وہ زندگی بھر اسی طرح کرتی رہیں)۔ عطاء بیان کرتے ہیں: ہم بھی اسی طرح کرتے رہیں گے۔