سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ باب: دوسروں کی طرف سے حج کرنے کا بیان
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ : لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ ، قَالَ : " مَنْ شُبْرُمَةَ ؟ " ، قَالَ : أَخٌ لِي أَوْ قَرَابَةٌ لِي ، قَالَ : " هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ ، ثُمَّ لَبِّ عَنْ شُبْرُمَةَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میرا بھائی ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے اپنی رشتہ داری کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم حج کر چکے ہو؟“ تو اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے اپنی طرف سے کرو اور بعد میں شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا۔“