نا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُحْرِمُ لا يَنْكِحُ ، وَلا يَخْطُبُ ، وَلا يُنْكِحُ " .نبیہ بن واہب بیان کرتے ہیں: عمر بن عبیداللہ نے ابان بن عثمان کو پیغام بھیجا، ابان ان دنوں امیر الحج تھے، دونوں حضرات حالت احرام میں تھے (پیغام یہ بھیجا): میں طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر کی صاحبزادی کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں، تو ابان نے ان کی اس بات کو مسترد کر دیا اور بولے: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حالت احرام والا شخص نہ خود نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی کو نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا نکاح کروا سکتا ہے۔“