سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالسَّعْيِ بَيْنَهُمَا باب: صفا و مروہ اور ان کے درمیان سعی کا بیان
نا نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، قَالَ : لَقِيتُ عَلِيًّا وَقَدْ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ هُوَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَقُلْتُ : هَلْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ كَمَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ " ذَلِكَ لَوْ كُنْتَ بَدَأْتُ الْعُمْرَةَ " ، فَقُلْتُ : كَيْفَ أَفْعَلُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَتُفِيضُهَا عَلَيْكَ ، ثُمَّ تُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا ، ثُمَّ تَطُوفُ لَهُمَا طَوَافَيْنِ وَتَسْعَى لَهُمَا سَعْيَيْنِ ، وَلا يَحِلُّ لَكَ إِحْرَامٌ دُونَ يَوْمِ النَّحْرِ " . قَالَ مَنْصُورٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُجَاهِدٍ ، فَقَالَ : مَا كُنَّا نُفْتِي إِلا بِطَوَافٍ وَاحِدٍ فَأَمَّا الآنَ فَلا نَفْعَلُ .ابونصر بیان کرتے ہیں: میری سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، میں نے حج کا احرام باندھ لیا تھا، جبکہ انہوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا میں ایسا کر سکتا ہوں، جیسا آپ نے کر لیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایسا ہو سکتا ہے، اگر تم پہلے عمرہ کر لو۔ میں نے دریافت کیا: میں اگر اس کا ارادہ کروں، تو مجھے کیا کرنا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: ”تم پانی کا ایک برتن لے کر اپنے اوپر بہاؤ اور پھر ان دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھ لو، پھر ان دونوں کے لیے دو مرتبہ طواف کرنا اور ایک مرتبہ سعی کرنا اور قربانی کے دن سے پہلے تمہارے لیے احرام کھولنا جائز نہیں ہو گا۔“ منصور نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ مجاہد سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: ہم تو یہی فتوی دیتے ہیں کہ ایک مرتبہ طواف کیا جائے گا، لیکن اب ہم ایسا نہیں کریں گے۔