سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالسَّعْيِ بَيْنَهُمَا باب: صفا و مروہ اور ان کے درمیان سعی کا بیان
حدیث نمبر: 2611
نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نَصْرٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، نا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكَ أَبِي وَلَمْ يَحُجَّ ، قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ ، أَيُتَقَبَّلُ مِنْهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْهُ " .محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”میرے والد انتقال کر چکے ہیں، انہوں نے حج نہیں کیا تھا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا اور تم ان کی طرف سے ادا کر دیتے، تو کیا وہ قبول ہو جاتا؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو تم ان کی طرف سے حج بھی کر لو۔“