سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالسَّعْيِ بَيْنَهُمَا باب: صفا و مروہ اور ان کے درمیان سعی کا بیان
حدیث نمبر: 2609
نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا جَدِّي ، نا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّ أَبِي مَاتَ وَعَلَيْهِ حَجَّةُ الإِسْلامِ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَبَاكَ تَرَكَ دَيْنًا عَلَيْهِ أَقَضَيْتَهُ عَنْهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میرے والد فوت ہو چکے ہیں، ان پر حج کرنا فرض تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم اس کی طرف سے ادا کر دیتے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو تم اپنے والد کی طرف سے حج بھی کر لو۔“