سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالسَّعْيِ بَيْنَهُمَا باب: صفا و مروہ اور ان کے درمیان سعی کا بیان
حَدَّثَنَا ابْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، نا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنِي مَعْرُوفُ بْنُ مُشْكَانَ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ اللائِي أَدْرَكْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَ : دَخَلْنَا دَارَ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ فَاطَّلَعْنَا مِنْ بَابٍ مُقَطَّعٍ ، فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ فِي الْمَسْعَى ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ زُقَاقَ بَنِي فُلانٍ ، مَوْضِعًا قَدْ سَمَّاهُ مِنَ الْمَسْعَى ، اسْتَقْبَلَ النَّاسَ ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْعَوْا ، فَإِنَّ السَّعْيَ قَدْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ " .منصور بن عبدالرحمن اپنی والدہ صفیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو عبدالدار سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین نے یہ بات بتائی ہے، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نصیب ہوا، انہوں نے بتایا: ہم لوگ ابن ابی حصین کے گھر میں داخل ہوئے، ہم نے دروازے سے جھانک کر دیکھا، تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سعی کرنے کی جگہ پر دوڑ رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زقاق بنو فلان تک پہنچے، یہ ایک جگہ ہے، جس کا نام سعی کرنے کی جگہ میں لیا جاتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! سعی کرو، کیونکہ سعی کرنا تم پر لازم قرار دیا گیا ہے۔“