حدیث نمبر: 2573
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نا رَوْحٌ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، قَالَ : كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ آخَرُ فَقَالَ : كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاءِ الثَّلاثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : مَا وَجَدْتُ : يَخْطُبُ إِلا فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . وَهُوَ حَسَنٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”میں یہ سمجھتا تھا، فلاں اور فلاں کام، فلاں اور فلاں کام سے پہلے ہیں۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں سمجھتا تھا، فلاں کام ان تین کاموں سے پہلے ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا، آپ نے یہی فرمایا: ”اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، صرف ابن جریج نے زہری کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔“ یہ روایت حسن ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2573
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 83، 124، 1736، 1737، 1738، 6665، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1306، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 889 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2949، 2951، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3877، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2014، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 916، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3051، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 591، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2566، 2567، 2568، 2569، 2570، 2573، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6595»
«قال الدارقطني: حسن ، سنن الدارقطني: (3 / 286) برقم: (2573)»