سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فِي حَجِّهِ باب: حج کے مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا رَوْحٌ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نا عَطَاءُ ، وَغَيْرُهُ هَؤُلاءِ الثَّلاثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ ، الْحَلْقُ مِنَ الرَّمْيِ وَالرَّمْيُ مِنَ الْحَلْقِ " ، وَرَجُلٌ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ ، النَّحْرُ مِنَ الرَّمْيِ وَالرَّمْيُ مِنَ النَّحْرِ " ، وَقَالَ : رَجُلٌ آخَرُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ، احْلِقْ ؟ قَالَ : " احْلِقْ وَلا حَرَجَ ، النَّحْرُ مِنَ الْحَلْقِ وَالْحَلْقِ مِنَ النَّحْرِ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدِيثُ عَطَاءٍ هَذَا فِي أَثَرِ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : مَا كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاءِ الثَّلاثِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَرَجَ " ، وَفِي هَذِهِ الثَّلاثِ : الْحَلْقُ قَبْلَ الرَّمْيِ.عطاء اور دیگر راویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ تین باتیں نقل کی ہیں، ایسے شخص کے بارے میں جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے، منڈوانا بھی رمی کا حصہ ہے اور رمی کرنا بھی سر منڈوانے کی طرح ہے۔“ ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، قربانی کرنا کنکریاں مارنے کا حصہ ہے اور کنکریاں مارنا قربانی کرنے کی طرح ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اور شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے سر منڈوانے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب سر منڈوا لو، کوئی حرج نہیں ہے، قربانی کرنا سر منڈوانے کا حصہ ہے اور سر منڈوانا قربانی کرنے کی طرح ہے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں: ”سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔“ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”(اس شخص نے عرض کی) میں یہ سمجھا تھا، فلاں کام فلاں سے پہلے ہے (راوی نے یہ الفاظ تین کاموں کے بارے میں نقل کیے ہیں)“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ تین کام ہیں، یعنی کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لینا۔