سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فِي حَجِّهِ باب: حج کے مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، والْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نا رَوْحٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهُ يَوْمَئِذٍ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، قربانی کے دن ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، اس شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ پھر ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی طواف افاضہ کر لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس دن میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: ”تم اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“