حدیث نمبر: 2569
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا : نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، قَالَ : " انْحَرْ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ وَلا أَخَّرَهُ ، إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " . كَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ فِي حَدِيثِهِ : أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ ، وَأَرَاهُ وَهَمَ فِيهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں اپنی اونٹنی پر موجود تھے، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا، قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا جاتا ہے، تو میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا، کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لینا چاہیے، اس لیے میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، یعنی آدمی نے کوئی کام پہلے کر لیا یا بعد میں کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: ”اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ اضافی ہیں: ”کنکریاں مارنے سے پہلے روانہ ہو گیا۔“ ان الفاظ میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی اور میرا خیال ہے، راوی کو یہ الفاظ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2569
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 83، 124، 1736، 1737، 1738، 6665، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1306، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 889 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2949، 2951، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3877، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2014، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 916، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3051، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 591، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2566، 2567، 2568، 2569، 2570، 2573، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6595»