حدیث نمبر: 2567
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْحَرْ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ أَوْ يَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ الأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا ، إِلا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْهُ وَلا حَرَجَ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ٹھہر گئے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنا شروع کیے، ان میں سے کسی نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے یہ پتا نہیں تھا، قربانی سے پہلے کنکریاں مارنی ہیں، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ دوسرے شخص نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے پتا نہیں تھا، قربانی سر منڈوانے سے پہلے ہو گی، میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی کسی معاملے سے متعلق سوال کیا گیا، جسے کوئی شخص بھول گیا تھا یا جس سے وہ واقف نہیں تھا، یعنی اس نے کوئی کام کسی دوسرے کام سے پہلے کر لیا، یا اس طرح کا کوئی عمل پہلے کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہی فرمایا: ”تم اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2567
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 83، 124، 1736، 1737، 1738، 6665، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1306، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 889 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2949، 2951، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3877، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2014، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 916، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3051، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 591، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2566، 2567، 2568، 2569، 2570، 2573، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6595»