سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فِي حَجِّهِ باب: حج کے مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا ، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ : " لا حَرَجَ إِلا رَجُلٌ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ ، فَذَاكَ الَّذِي خَرَجَ وَهَلَكَ " . وَلَمْ يَقُلْ : سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ إِلا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کوئی یہ کہہ رہا تھا: ”یا رسول اللہ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی ہے۔“ یا میں نے ایک چیز کو موخر کر دیا ہے، یا ایک رکن کو پہلے کر لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرما رہے تھے: ”کوئی حرج نہیں ہے، ماسوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچائے اور وہ زیادتی کرنے والا ہو، یہ شخص حرج کا شکار ہو جائے گا اور ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ صرف جریر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی۔“