حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا ، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ : " لا حَرَجَ إِلا رَجُلٌ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ ، فَذَاكَ الَّذِي خَرَجَ وَهَلَكَ " . وَلَمْ يَقُلْ : سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ إِلا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.
محمد محی الدین

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کوئی یہ کہہ رہا تھا: ”یا رسول اللہ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی ہے۔“ یا میں نے ایک چیز کو موخر کر دیا ہے، یا ایک رکن کو پہلے کر لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرما رہے تھے: ”کوئی حرج نہیں ہے، ماسوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچائے اور وہ زیادتی کرنے والا ہو، یہ شخص حرج کا شکار ہو جائے گا اور ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ صرف جریر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2565
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2774، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1386، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2015، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9751، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2565، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 6015، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 472»