حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، أَنَّ مَوَالِيَ لابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَجَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا ، فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ ، فَأَتَوْا ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ " عَلَيْكُمْ كَبْشٌ " ، قَالُوا : عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ ؟ قَالَ : " إِنَّكُمْ لَمُغَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ جَمِيعًا كُلُّكُمْ كَبْشٌ " . قَالَ : اللُّغَوِيُّونَ : قَوْلُهُ : إِنَّكُمْ لَمُغَزَّزٌ بِكُمْ : أَيْ لَمُشَدَّدٌ عَلَيْكُمْ إِذًا.عمار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابن زبیر کے کچھ غلام حالت احرام میں تھے۔ ایک مرتبہ ایک گوہ ان کے پاس سے گزری۔ انہوں نے لاٹھیوں کے ذریعے مار کر اسے قتل کر دیا۔ پھر انہیں اس بارے میں الجھن ہوئی۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہو گی۔ انہوں نے عرض کی: کیا ہم میں سے ہر شخص پر دنبے کی قربانی لازم ہو گی؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم اپنے اوپر زیادتی کر رہے ہو، تم سب پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہو گی۔ علم لغت کے ماہرین نے کہا ہے: روایت کے یہ الفاظ ”لمعزربکم“ سے مراد یہ ہے کہ اس صورت میں تم اپنے ساتھ زیادتی کرو گے۔