حدیث نمبر: 2556
نا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَحَامِلِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَّ رَجُلا أَوْطَأَ بَعِيرُهُ أُدْحِيَّ نَعَامَةٍ ، فَسَأَلَ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ ، أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : " قَدْ قَالَ مَا سَمِعْتَ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ : عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین

معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلا توڑ دیا، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک اونٹنی کو جفتی کے لیے دینا ہو گا یا اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچے کی ادائیگی کرنی ہو گی۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے جو کہا، وہ تم نے سن لیا، تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے؟ ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک دن کا روزہ رکھنا ہو گا اور ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2556
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10134، 10135، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2552، 2553، 2554، 2555، 2556، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20913، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 8292، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15450، وأبو داود فى "المراسيل"، 139»