وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَوْطَأَ بَعِيرُهُ أُدْحِيَّ نَعَامَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَأَتَى عَلِيًّا يَذْكُرُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ ضَرَبْتَ نَاقَةٌ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ : " قَدْ قَالَ عَلِيُّ فِيهَا مَا قَالَ ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ " .عبدالرحمن بن ابولیلیٰ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلا دے دیا، وہ شخص حالت احرام میں تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس کی بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک اونٹنی کو (جفتی کے لیے) دینا ہو گا یا ایک اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچہ دینا ہو گا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”علی نے تو اس بارے میں جو کہنا تھا، وہ کہہ دیا ہے، لیکن تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے؟ ہر ایک انڈے کے عوض تم پر ایک دن کا روزہ رکھنا لازم ہو گا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔“