حدیث نمبر: 2516
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْحَجُّ ؟ قَالَ : " الْحَجُّ عَرَفَةُ الْحَجُّ عَرَفَةُ ، مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، أَيَّامُ مِنًى ثَلاثَةٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عرفہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جدہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! حج کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حج عرفہ (میں وقوف کا نام ہے)، جو شخص قربانی کے دن صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ پہنچ جائے، اس کا حج پورا ہو گیا، منی کے ایام تین ہیں، لیکن جو شخص دو دن بعد جلدی چلا جائے، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا اور جو شخص بعد میں (یعنی تیسرے دن بھی) ٹھہرا رہے، اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2516
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 515، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3892، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1709، 3118، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3019 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1949، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 889، 890، 2975، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1929، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3015، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 923،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2516، 2517، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19075»