نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّرَامِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِهِ الصَّلاةَ ثُمَّ وَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلا أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " . قَالَ الشَّعْبِيُّ : وَمَنْ لَمْ يَقِفْ بِجَمْعٍ جَعَلَهَا عَمْرَةً.سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میرا حج ہو گیا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمارے ساتھ یہ نماز ادا کر لے اور ہمارے ساتھ اس وقت تک ٹھہرا رہے، جب تک ہم روانہ نہ ہو جائیں یا جو شخص رات کے وقت یا دن کے وقت اس سے پہلے عرفات سے روانہ ہو جائے، اس کا حج مکمل ہو جائے گا اور اس نے اپنی نذر کو پورا کر لیا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جو شخص مزدلفہ میں وقوف نہیں کر پاتا، وہ اسے عمرہ بنا لے۔