حدیث نمبر: 251
نا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، نا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، وَأَبِي الأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خُذْ مَعَكَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ " ، ثُمَّ انْطَلَقَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، فَلَمَّا أَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْطَأْتُ بِالنَّبِيذِ ، فَقَالَ : " تَمْرَةٌ حُلْوَةٌ وَمَاءٌ عَذْبٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ساتھ پانی کا برتن لے لو۔“ پھر آپ چلتے رہے، میں بھی آپ کے ساتھ رہا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جنات سے ملاقات والے واقعہ کا تذکرہ کیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں نے اس برتن سے آپ پر پانی انڈیلا تو وہ نبیذ تھی۔ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، میں نبیذ لے آیا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھجور میٹھی ہوتی ہے اور اس کا پانی میٹھا ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں حسن بن قتیبہ نامی راوی منفرد ہیں اور یہ حسن بن تشیبہ اور محمد بن عیسیٰ نامی راوی دونوں ضعیف ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 251
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 450،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 82، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1432، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3879، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 39، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 38، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 12، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 384، 385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 149، 150، 243، 244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3858»
«قال ابن حجر: هذا الحديث أطبق علماء السلف على تضعيفه ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 421)»