حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ صَالِحٍ الْهَاشِمِيُّ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَأَتَاهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ : " أَمَعَكَ مَاءٌ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " ، قُلْتُ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا إِدَاوَةً فِيهَا نَبِيذٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، فَتَوَضَّأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ عَلَى الثِّقَاتِ.ابووائل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: جنات سے ملاقات کی رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے ان کے سامنے قرآن پڑھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے رات کے کسی حصے میں دریافت کیا: ”اے ابن مسعود! تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کی: ”نہیں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میرے پاس برتن میں صرف نبیذ موجود ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھجور پاکیزہ ہوتی ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ حسین بن عبید اللہ نامی راوی ثقہ راویوں کے حوالے سے روایات ایجاد کر کے اپنی طرف سے بیان کر دیتا تھا۔