سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ باب: : جب پانی میں نجاست مل جائے، تو اس کا حکم
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نا عَفَّانُ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : كُنَّا فِي بُسْتَانٍ لَنَا أَوْ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَقَامَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى مُقْرًى فِي الْبُسْتَانِ فَجَعَلَ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَفِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ مَيِّتٍ ، فَقُلْتُ : أَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَفِيهِ هَذَا الْجِلْدُ ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجَّسْ " .عاصم بن منذر بیان کرتے ہیں: ہم ایک باغ میں موجود تھے راوی کو شک ہے، یہ الفاظ ہیں: وہ ہمارا تھا یا شاید یہ الفاظ ہیں، وہ سیدنا عبداللہ بن عبداللہ کا تھا، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا تو عبداللہ اٹھے، اور باغ میں موجود حوض کے پاس گئے اور اس سے وضو کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اس حوض میں اونٹ کی کھال پڑی ہوئی تھی، میں نے کہا: آپ اس سے وضو کر رہے ہیں، اس میں کھال پڑی ہوئی ہے تو انہوں نے بتایا: میرے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث مجھے سنائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب پانی دو قلے ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“