قُرِئَ عَلَى أَبِي قَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، نا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَمَعَكَ نَبِيذٌ ؟ أَحْسَبُهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَتَوَضَّأَ بِهِ " . لا يُثْبَتُ مِنْ وَجْهَيْنِ وَنُكْتَةً ذَكَرْتُهَا فِيهِ .عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعبیدہ سے دریافت کیا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنات سے ملاقات کی رات موجود تھے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں!“ ایک اور روایت میں یہ بات منقول ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”نہیں!“ آپ نے پھر دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نبیذ کے ذریعے وضو کر لیا۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: یہ روایت دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، اس کو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔