حدیث نمبر: 247
قُرِئَ عَلَى أَبِي قَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، نا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَمَعَكَ نَبِيذٌ ؟ أَحْسَبُهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَتَوَضَّأَ بِهِ " . لا يُثْبَتُ مِنْ وَجْهَيْنِ وَنُكْتَةً ذَكَرْتُهَا فِيهِ .
محمد محی الدین

عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعبیدہ سے دریافت کیا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنات سے ملاقات کی رات موجود تھے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں!“ ایک اور روایت میں یہ بات منقول ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”نہیں!“ آپ نے پھر دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نبیذ کے ذریعے وضو کر لیا۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: یہ روایت دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، اس کو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 247
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 450،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 82، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1432، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3879، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 39، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 38، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 12، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 384، 385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 149، 150، 243، 244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3858»
«قال ابن حجر: هذا الحديث أطبق علماء السلف على تضعيفه ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 421)»