حدیث نمبر: 244
نا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ قَانِعٍ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " ، فَقَالَ : مَعِيَ نَبِيذٌ فِي إِدَاوَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُبَّ عَلَيَّ مِنْهُ " ، فَتَوَضَّأَ ، وَقَالَ : " هُوَ شَرَابٌ وَطَهُورٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہ وہ رات تھی جب جنات سے ملاقات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا: ”اے ابن مسعود! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میرے پاس برتن میں نبیذ موجود ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہی مجھ پر بہا دو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کیا اور ارشاد فرمایا: ”یہ پینے کی چیز بھی ہے اور اس سے پاکی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں ابن لہیعہ نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف راوی ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 244
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 450،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 82، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1432، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3879، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 39، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 38، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 12، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 384، 385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 149، 150، 243، 244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3858»
«قال ابن حجر: هذا الحديث أطبق علماء السلف على تضعيفه ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 421)»