حدیث نمبر: 243
ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاعِظُ ، نا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ بِنَبِيذٍ ، فَتَوَضَّأَ بِهِ ، وَقَالَ : " شَرَابٌ طَهُورٌ " . ابْنُ لَهِيعَةَ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ ، وَقِيلَ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ . كَذَلِكَ رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرُهُمَا عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا شَهِدْتُ لَيْلَةَ الْجِنِّ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جنات سے ملاقات (کی رات) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ کے ذریعے وضو کروایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا، آپ نے فرمایا: ”یہ پینے کی چیز ہے اور پاک ہے۔“ ابن لہیعہ نامی راوی مستند نہیں سمجھا جاتا۔ ایک قول یہ بھی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود نہیں تھے۔ علقمہ بن قیس نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ ابوعبیدہ بن عبداللہ اور دیگر راویوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”جنات سے ملاقات کی رات میں موجود نہیں تھا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 243
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 450،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 82، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1432، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3879، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 39، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 38، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 12، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 384، 385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 149، 150، 243، 244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3858»
«قال ابن حجر: هذا الحديث أطبق علماء السلف على تضعيفه ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 421)»