حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْوَانَ الْخَلالُ ، نا أَبِي ، نا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَالْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي قَوْلِهِ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا السَّبِيلُ ؟ قَالَ : " زَادٌ وَرَاحِلَةٌ " .یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جبکہ ایک سند کے ہمراہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”اور اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں، جو شخص اس تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سبیل سے مراد کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زاد سفر اور سواری (میسر ہونا)۔“