حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْوَانَ الْخَلالُ ، نا أَبِي ، نا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَالْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي قَوْلِهِ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا السَّبِيلُ ؟ قَالَ : " زَادٌ وَرَاحِلَةٌ " .
محمد محی الدین

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جبکہ ایک سند کے ہمراہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”اور اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں، جو شخص اس تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سبیل سے مراد کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زاد سفر اور سواری (میسر ہونا)۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2424
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 813، 2998، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2896، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8715، 8729، 9202، 10242، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2421، 2422، 2423، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15287، 15946، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5041»
«فيه إبراهيم بن يزيد الخوزي وهو ضعيف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 84)»