نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، نا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالَ : " السَّبِيلُ إِلَى الْحَجِّ : الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ " ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا الْحَاجُّ ؟ قَالَ : " الشَّعْثُ التَّفْلُ " ، وَسُئِلَ : أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْعَجُّ وَالثَّجُّ " . وَقَدْ قِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا: ”اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا، لوگوں پر لازم ہے جو اس تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حج کی سبیل سے مراد زاد راہ اور سواری ہے۔“ عرض کی گئی: حاجی کون ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور تیل نہ لگانے کی وجہ سے بودار ہوں۔“ دریافت کیا گیا: کون سا حج زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس میں بلند آواز میں تلبیہ پڑھا گیا اور قربانی کے جانور کا خون بہایا گیا ہو۔“