سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ باب: رمضان میں بیوی سے جماع کرنے والے کا کفارہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالا : نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِأَهْلِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : لا أَجِدُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : مَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : مَا أَجِدُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، فَقَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، قَالَ : عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي فَمَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي ، قَالَ : " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ ، وَصُمْ يَوْمًا ، وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کو بتایا کہ اس نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے پاس وہ نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو۔“ اس نے کہا: ”میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لو اور اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”کیا اپنے اور گھر والوں سے زیادہ ضرورت مند کو کروں؟ مجھے اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”اسے تم کھا لو اور تمہارے گھر والے کھائیں اور تم ایک دن روزہ رکھ لو اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔“