حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، وحَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالا : نا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : لا أَجِدُ ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لا أَجِدُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، قَالَ : خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ، قَالَ : " فَخُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " . لَفْظُ بَكَّارٍ . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے رمضان (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”دو ماہ مسلسل روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”میں یہ بھی نہیں کر سکتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پندرہ صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے لو اور اپنی طرف سے کھلا دو۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! پورے شہر میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ یہ الفاظ بکار نامی راوی کے ہیں اور محمد بن ابوحفصہ نامی راوی نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2400
درجۂ حدیث محدثین: عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «عند الشواهد الحديث صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1936، 1937، 2600، 5368، 6087، 6164، 6709، 6710، 6711، 6821، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1111، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: برقم : 261 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2390، 2392، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 724، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1757، 1758، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1671، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2303، 2304، 2305، 2308، 2397، 2398، 2399، 2400، 2401، 2402»