حدیث نمبر: 2378
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَبُو بِشْرٍ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 ، قَالَ : يُطِيقُونَهُ يُكَلَّفُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَزَادَ مِسْكِينًا آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ، وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ، فَلا يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلا لِلْكَبِيرِ الَّذِي لا يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُشْفَى " . وَهَذَا الإِسْنَادُ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، وہ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، اور جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہے، تو وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ یہ حکم منسوخ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تم روزہ رکھ لو، تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ تو اس معاملے میں رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس مریض کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے کہ وہ اب کبھی بھی شفا یاب نہیں ہو گا۔ اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2378
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4505، وابن الجارود فى "المنتقى"، 418، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 81، 263، 243، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1612، 1613، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2319 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2316، 2317، 2318، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8173،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2374، 2377، 2378، 2379، 2380، 2381، 2382، 2384، 2385، 2386، 2387، 4339»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 193) برقم: (2374)»