حدیث نمبر: 2377
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ثنا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 وَاحِدٍ " ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ، قَالَ : " زَادَ مِسْكِينًا آخَرَ " ، فَهُوَ خَيْرٌ ، قَالَ : " وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ الَّذِي لا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ ، وَأُمِرَ أَنْ يُطْعِمَ الَّذِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُطِيقُهُ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا: ”اور وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ اس سے مراد ایک مسکین ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تو جو شخص بھلائی نفلی طور پر کرے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یعنی جو ایک اور مسکین کو بھی کھانا کھلا دے، تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ وہ فرماتے ہیں: یہ حکم منسوخ نہیں ہے، البتہ یہ رخصت اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اور کھانا کھلانے کا یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو یہ جانتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ اس کی سند صحیح ہے اور ثابت ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4505، وابن الجارود فى "المنتقى"، 418، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 81، 263، 243، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1612، 1613، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2319 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2316، 2317، 2318، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8173،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2374، 2377، 2378، 2379، 2380، 2381، 2382، 2384، 2385، 2386، 2387، 4339»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 193) برقم: (2374)»