حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نا أَبِي ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " النَّبِيذُ وُضُوءٌ إِذَا لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ " . قَالَ الأَوْزَاعِيُّ : " إِنْ كَانَ مُسْكِرًا فَلا يَتَوَضَّأُ بِهِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ أَبِي : " كُلُّ شَيْءٍ تَحَوَّلَ عَنِ اسْمِ الْمَاءِ لا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتَوَضَّأَ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ " .محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ”جو شخص نبیذ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ پائے، وہ نبیذ کے ذریعے وضو کر سکتا ہے۔“ امام اوزاعی بیان کرتے ہیں: ”اگر وہ نبیذ نشہ آور ہو، تو آدمی اس کے ذریعے وضو نہیں کرے گا۔“ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: ”ہر وہ چیز جسے پانی نہ کہا جا سکے، اس کے بارے میں میرے نزدیک پسندیدہ رائے یہی ہے: آدمی اس کے ذریعے وضو نہ کرے، اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے: آدمی نبیذ کے ذریعے وضو کرنے کی بجائے تیمم کرے۔“