حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الاعْتِكَافِ وَكَيْفَ سُنَّتِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، وَأَنَّ السُّنَّةَ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ ، وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً ، وَلا يَعُودُ مَرِيضًا ، وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً ، وَلا يُبَاشِرُهَا ، وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ ، وَسُنَّةُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج نے اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے: ”وہ صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہر نکل سکتا ہے، وہ جنازے میں شریک نہیں ہو گا، بیمار کی عیادت نہیں کرے گا، وہ اپنی بیوی کو چھو نہیں سکے گا، اس کے ساتھ مباشرت نہیں کر سکتا، اعتکاف صرف اس جگہ میں ہو گا، جہاں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے، اور اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے، وہ روزہ رکھے۔“