حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلا جَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى يَوْمِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.محمد محی الدین
زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں: مجھے یاد ہے، ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ ہر بدھ کو روزہ رکھے گا، تو یہ دن عید الفطر اور عید الاضحی کے دن آ گیا، تو اب (اسے کیا کرنا چاہیے)؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔“ اس کی سند مستند ہے۔