حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا لَمْ يَصِحَّ بَيْنَ الرَّمَضَانَيْنِ صَامَ عَنْ هَذَا ، وَأَطْعَمَ عَنِ الْمَاضِي ، وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، صَامَ هَذَا وَأَطْعَمَ عَنِ الْمَاضِي ، فَإِذَا أَفْطَرَ قَضَاهُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص دو رمضان کے درمیان تندرست نہ ہو، تو وہ موجودہ رمضان کے روزے رکھے گا (یعنی اس کی قضاء کے روزے) اور گزشتہ رمضان کی طرف سے کھانا کھلا دے گا اور اس شخص پر (گزشتہ رمضان کے روزوں کی) قضاء لازم نہیں ہو گی، لیکن جو شخص تندرست ہو اور وہ روزے نہ رکھے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جائے، تو وہ موجودہ رمضان کے روزے رکھے گا، پھر سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے طور پر مسکینوں کو کھانا کھلائے گا اور جب اس کے اس مہینے کے روزے ختم ہو جائیں گے، تو پھر وہ سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء کرے گا۔“ اس کی سند مستند ہے۔