حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، ثنا مُسَدَّدٌ ، ثنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي رَجُلٍ مَرِضَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، قَالَ : " يَصُومُ الَّذِي أَدْرَكَهُ وَيُطْعِمُ عَنِ الأَوَّلِ لِكُلِّ يَوْمٍ مَدًّا مِنْ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ ، فَإِذَا فَرَغَ فِي هَذَا صَامَ ، الَّذِي فَرَّطَ فِيهِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ.عطاء بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فرمایا تھا، جو رمضان میں بیمار ہوا تھا اور بعد میں تندرست ہو گیا تھا، اس نے (ابتدائی حصے میں) روزے نہیں رکھے تھے، یہاں تک کہ آخری حصے میں اسے روزے رکھنے کا موقع ملا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: ”جس حصے میں وہ روزے رکھ سکتا ہے، وہ روزے رکھے اور ابتدائی جس حصے میں اس نے روزے نہیں رکھے، ہر ایک دن کے عوض گندم کا ایک صاع ایک مسکین کو دے گا اور جب وہ اس سے فارغ ہو گا، تو اس دن کا روزہ رکھے گا، جس دن کے بارے میں اس نے کوتاہی کی تھی۔“ اس کی سند صحیح موقوف ہے۔