حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُتَيْبَةَ الْمُعَيْطِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا عَنْبَسَةُ ، ثنا يُونُسُ ، قَالَ : سَأَلَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ عَنْبَسَةُ : وَهُوَ أَخُو يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَجُلٍ مَرِضَ فَطَالَ بِهِ مَرَضُهُ ، حَتَّى مَرَّ بِهِ رَمَضَانَانِ أَوْ ثَلاثَةٌ ، فَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَلَمْ يَكُنْ صَامَ رَمَضَانَ الْخَالِي فَلْيُطْعِمْ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ ، ثُمَّ لَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ " .یونس بیان کرتے ہیں: سعید بن زید نے (عنبسہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یہ صاحب یونس کے بھائی ہیں) نافع سے، جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں، سوال کیا: ایسے شخص کے بارے میں جو بیمار ہو جاتا ہے اور اس کی بیماری طویل ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ بیماری کے دوران دو مرتبہ رمضان گزر جاتے ہیں (تو وہ شخص روزے نہیں رکھ پاتا)۔ نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرمایا کرتے تھے: ”جس شخص کو رمضان کا زمانہ مل جائے اور وہ رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھ سکے، تو ہر ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دیا کرے، تو پھر اس کے ذمے قضاء لازم نہیں رہے گی۔“