حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا أَبُو عَوْفٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالا : نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثنا زَائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " . قَالَ سُلَيْمَانُ : قَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ جَمِيعًا حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالا : سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا ، وَقَالَ دَعْلَجٌ : فَقَالا : سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، هَذَا أَصَحُّ إِسْنَادًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ . وَقَالَ ابْنُ مَعْرَاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے لازم تھے، کیا میں ان کی طرف سے انہیں ادا کر لوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم ان کی طرف سے ادا کر دیتے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے، کہ اسے ادا کیا جائے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔