حدیث نمبر: 2338
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَيَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَبَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، قَالُوا : ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، وَالْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ ، قَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے ذمے رمضان کے روزے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم ادا کر دیتی؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اس کا حق ادا کیا جائے)۔“