سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مِرْوَاحٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مِرْوَاحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . وَخَالَفَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْقَوْلانِ صَحِيحَيْنِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے اندر یہ قوت پاتا ہوں کہ سفر کے دوران روزہ رکھوں، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا (اگر میں روزہ رکھ لیتا ہوں)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کر لے گا، وہ اچھا کرے گا، اور جو روزہ رکھنا چاہے گا، اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ اس روایت کی سند صحیح ہے، ہشام بن عروہ نے اس کی سند میں اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے، سیدنا حمزہ بن عمرو نے سوال کیا تھا۔ اس بات کا احتمال موجود ہے، یہ دونوں روایات درست ہوں، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔