حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ التُّبَّعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَصَرَ ، وَأَتْمَمْتُ الصَّلاةَ ، وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ إِلَى مَكَّةَ ، قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ ، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ ، وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ " ، وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ . قَالَ الشَّيْخُ : الأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ ، وَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ ، وَهُوَ مَعَ أَبِيهِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهَا.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا، میں آپ کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر نماز ادا کی، میں نے مکمل نماز ادا کی، آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے روزہ رکھا، جب میں مکہ کے قریب پہنچی، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے قصر نماز ادا کی، میں نے مکمل نماز ادا کی، آپ نے روزہ نہیں رکھا، میں نے روزہ رکھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ! تم نے ٹھیک کیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ شیخ فرماتے ہیں: پہلی روایت مستند ہے اور اس کی سند متصل ہے۔ عبدالرحمن نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ پایا ہے، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، جب وہ ابھی قریب البلوغ بچے تھے، وہ اس وقت اپنے والد کے ہمراہ تھے، انہوں نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2294
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1458 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1927، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5510، 5511، 5512، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2293، 2294، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4258، 4259»
«الأول متصل وهو إسناد حسن يقصد رواية عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 526)»