سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الْإِفْطَارِ باب: افطار کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 2279
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثنا مَرْوَانُ الْمُقَفَّعِ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ وَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَى الْكَفِّ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ : " ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.محمد محی الدین
مروان بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی ڈاڑھی مٹھی میں لی ہوئی تھی اور ایک مٹھی سے زیادہ جو حصہ تھا، اسے کاٹ رہے تھے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا، تو اجر بھی ثابت ہو گیا۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں حسین بن واقد رحمہ اللہ نامی راوی منفرد ہیں اور اس کی سند حسن ہے۔