سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ باب: روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ فِي شَيْءٍ صَنَعْتُ الْيَوْمَ ؟ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ، فَمَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فَأَعْجَبَتْنِي ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا ، فَعَظَّمَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ مَا صَنَعَ ، وَعَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَاكِتٌ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " أَتَيْتَ حَلالا ، وَيَوْمٌ مَكَانَ يَوْمٍ " ، قَالَ : أَنْتَ خَيْرُهُمْ فُتْيَا .داؤد بن ابوعاصم بیان کرتے ہیں: انہوں نے سعید بن مسیب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا: میں نے آج جو حرکت کی ہے، اس کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے؟ صبح میں نے روزہ رکھا تھا، پھر میرے پاس سے کنیز گزری، مجھے وہ اچھی لگی، تو میں نے اس کے ساتھ صحبت کر لی، لوگوں کو ان کی یہ حرکت بہت غلط محسوس ہوئی، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: آپ نے ایک حلال کام کا ارتکاب کیا ہے اور اس دن کے بدلے میں دوسرے دن روزہ رکھ لیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے ان سب سے بہتر فتویٰ دیا ہے۔